عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، مِسْعَرٍ ، أَبِي مَرْزُوقٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ مِسْعَرٍ , عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ , عَنْ أَبِي وَائِلٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ , قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى عَصًا , فَلَمَّا رَأَيْنَاهُ قُمْنَا , فَقَالَ:" لَا تَفْعَلُوا كَمَا يَفْعَلُ أَهْلُ فَارِسَ بِعُظَمَائِهَا" , قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ: لَوْ دَعَوْتَ اللَّهَ لَنَا , قَالَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا , وَارْضَ عَنَّا , وَتَقَبَّلْ مِنَّا , وَأَدْخِلْنَا الْجَنَّةَ , وَنَجِّنَا مِنَ النَّارِ , وَأَصْلِحْ لَنَا شَأْنَنَا كُلَّهُ" , قَالَ فَكَأَنَّمَا أَحْبَبْنَا أَنْ يَزِيدَنَا , فَقَالَ:" أَوَلَيْسَ قَدْ جَمَعْتُ لَكُمُ الْأَمْرَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عصا (چھڑی) پر ٹیک لگائے ہمارے پاس باہر تشریف لائے، جب ہم نے آپ کو دیکھا تو ہم کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایسے کھڑے نہ ہوا کرو جیسے فارس کے لوگ اپنے بڑوں کے لیے کھڑے ہوتے ہیں“ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش آپ ہمارے لیے اللہ سے دعا فرماتے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللهم اغفر لنا وارحمنا وارض عنا وتقبل منا وأدخلنا الجنة ونجنا من النار وأصلح لنا شأننا كله» ”اے اللہ! ہمیں بخش دے، اور ہم پر رحم فرما، اور ہم سے راضی ہو جا، ہماری عبادت قبول فرما، ہمیں جنت میں داخل فرما، اور جہنم سے بچا، اور ہمارے سارے کام درست فرما دے“، ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تو گویا ہماری خواہش ہوئی کہ آپ اور کچھ دعا فرمائیں: تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں نے تمہارے لیے جامع دعا نہیں کر دی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3836]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الأدب 165 (5230)، (تحفة الأشراف: 4934)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/253، 256) (ضعیف)» (ابو مرزوق لین الحدیث ہیں، اور سند میں کافی اضطراب ہے، لیکن فعل فارس سے ممانعت صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 346)
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (5230)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 514
الحكم: ضعيف