عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، أَبِي إِسْحَاق ، أَبِي الْمُغِيرَةِ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ أَبِي الْمُغِيرَةِ , عَنْ حُذَيْفَةَ , قَالَ: كَانَ فِي لِسَانِي ذَرَبٌ عَلَى أَهْلِي وَكَانَ لَا يَعْدُوهُمْ إِلَى غَيْرِهِمْ , فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" أَيْنَ أَنْتَ مِنَ الِاسْتِغْفَارِ؟ تَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ سَبْعِينَ مَرَّةً".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں پر زبان درازی کرتا تھا، لیکن اپنے گھر والوں کے سوا کسی اور سے زبان درازی نہ کرتا تھا، میں نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم استغفار کیوں نہیں کیا کرتے، تم ہر روز ستر بار استغفار کیا کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3817]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3376، ومصباح الزجاجة: 1338)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/394، 396، 397، 402)، سنن الدارمی/الرقاق 15 (2765) (ضعیف)» (سند میں ابوالمغیرہ حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت میں مضطرب الحدیث ہیں)
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: ضعيف