بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 3802 — باب: اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے والوں کی فضیلت۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: اسلامی آداب و اخلاق باب: اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے والوں کی فضیلت۔ حدیث 3802
حدیث نمبر: 3802 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاق ، عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ رَجُلٌ: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا , طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ , فَلَمَّا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" مَنْ ذَا الَّذِي قَالَ هَذَا؟" , قَالَ الرَّجُلُ: أَنَا , وَمَا أَرَدْتُ إِلَّا الْخَيْرَ , فَقَالَ: لَقَدْ فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ , فَمَا نَهْنَهَهَا شَيْءٌ دُونَ الْعَرْشِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، ایک شخص نے ( «سمع الله لمن حمده» کے بعد) «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه» کہا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: یہ کلمہ کس نے کہا؟ اس شخص نے عرض کیا: میں نے یہ کلمہ کہا اور اس سے میری نیت خیر کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کلمہ کے لیے آسمان کے دروازے کھول دئیے گئے، اور اس کلمے کو عرش تک پہنچنے سے کوئی چیز نہیں روک سکی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3802]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11765، ومصباح الزجاجة: 1328)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/316، 318، 319) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (ابو سحاق سبیعی مدلس و مختلط راوی ہیں، او ر روایت عنعنہ سے کی ہے، اور عبد الجبار بن وائل ثقہ راوی ہیں، لیکن اپنے والد سے ان کی روایت مرسل ہے، یہ حدیث ابن عمر اور انس رضی اللہ عنہما سے ثابت ہے، لیکن «فما نهنهها شيء دون العرش» ثابت نہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف لكن صح نحوه من حديث ابن عمر وأنس دون قوله فما نهنها ... م
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (933)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 512
الحكم: ضعيف لكن صح نحوه من حديث ابن عمر وأنس دون قوله فما نهنها ... م
← پچھلی حدیث (3801) باب پر واپس اگلی حدیث (3803) →