أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، الْحَكَمِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ حَدَّثَ عَنِّي حَدِيثًا وَهُوَ يُرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبَيْنِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مجھ سے کوئی حدیث یہ جانتے ہوئے بیان کرے کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ دو جھوٹوں میں سے ایک ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 38]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10212)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/العلم 9 (2662)، مسند احمد (5/14، 20) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 40) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: «الكاذبين» تثنیہ کے ساتھ یعنی دو جھوٹے، دو جھوٹوں سے مراد ایک تو وہ شخص ہے جو جھوٹی حدیثیں گھڑتا ہے، دوسرا وہ شخص ہے جو ان کی روایت کرتا ہے، مطلب یہ ہے کہ روایت کرنے والا بھی گناہ میں گھڑنے والے کے ساتھ شریک ہو گا، اور «الكاذبين» جمع کے ساتھ بھی آیا ہے تو اس کا معنی یہ ہو گا کہ بہت سارے جھوٹے لوگوں میں سے ایک جھوٹا آدمی احادیث کا گھڑنے والا بھی ہو گا۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح