أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ ، أَبِي إِسْحَاق ، الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَأَبِي سَعِيدٍ , يَشْهَدَانِ بِهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ فِيهِ , إِلَّا حَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ , وَتَغَشَّتْهُمُ الرَّحْمَةُ , وَتَنَزَّلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ , وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ اور ابوسعید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ دونوں گواہی دیتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگ مجلس میں بیٹھ کر ذکر الٰہی کرتے ہیں، فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں، اور (اللہ کی) رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے، اور سکینت ان پر نازل ہونے لگتی ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے مقرب فرشتوں سے ان کا ذکر کرتا ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3791]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الذکروالدعاء 11 (2700)، سنن الترمذی/الدعوات 7 (3378)، (تحفة الأشراف: 3964، 12194)، وقد أخرجہ: مسند احمد3/33، 49، 92، 94) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: ایک حدیث میں ہے کہ لوگوں نے زور سے اللہ کی یاد شروع کی یعنی بہت چلا کر تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اس کو نہیں پکارتے جو بہرہ ہے، یا غائب ہے، اپنے اوپر آسانی کرو، دوسری روایت میں ہے کہ وہ تم سے زیادہ قریب ہے تمہارے پالان کی آگے کی لکڑی یا تمہارے اونٹ کی گردن سے بھی، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہر جگہ اور ہر چیز کو سنتا، اور دیکھتا ہے، پس چلانے کی ضرورت نہیں اگرچہ اس کی ذات مقدس عرش معلی پر ہے مگر اس کا سمع اور بصر ہر جگہ ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح