أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَثَلُ الْقُرْآنِ مَثَلُ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ , إِنْ تَعَاهَدَهَا صَاحِبُهَا بِعُقُلِهَا أَمْسَكَهَا عَلَيْهِ , وَإِنْ أَطْلَقَ عُقُلَهَا ذَهَبَتْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کی طرح ہے جب تک مالک اسے باندھ کر دیکھ بھال کرتا رہے گا تب تک وہ قبضہ میں رکھے گا، اور جب اس کی رسی کھول دے گا تو وہ بھاگ جائے گا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3783]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/المسافرین 32 (789)، سنن الترمذی/القراء ات 100 (2942)، (تحفة الأشراف: 7546)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فضائل القرآن 23 (5031)، سنن النسائی/الافتتاح 37 (943)، موطا امام مالک/القرآن 4 (6)، مسند احمد (2/17، 23، 30، 64، 112) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس لیے حافظ قرآن کو چاہئے کہ وہ پابندی سے قرآن کریم کی تلاوت کرتا رہے، کیونکہ اگر وہ اسے پڑھنا ترک کر دے گا، تو بھول جائے گا پھر اس کی ساری محنت ضائع ہو جائے گی۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح