هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , قَالَ: قُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ : أَسَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ: مَرَّ رَجُلٌ بِسِهَامٍ فِي الْمَسْجِدِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمْسِكْ بِنِصَالِهَا" , قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار سے کہا: کیا آپ نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ ایک شخص مسجد میں تیر لے کر گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی پیکان (نوک و پھل) تھام لو“، انہوں نے کہا: ہاں (سنا ہے) ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3777]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الصلاة 66 (451)، الفتن 7 (7073)، صحیح مسلم/البر والصلة 34 (2614)، سنن ابی داود/الجہاد 72 (2586)، سنن النسائی/المساجد 26 (719)، (تحفة الأشراف: 2527)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/308، 350)، سنن الدارمی/المقدمة 53 (657) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہ حکم اس لیے ہے کہ کسی کو اس کی نوک نہ لگے کہ وہ زخمی ہو جائے۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح