هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيِّ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيِّ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" لَا يَقُصُّ عَلَى النَّاسِ , إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُرَاءٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو وعظ و نصیحت وہی کرتا ہے جو حاکم ہو، یا وہ شخص جو حاکم کی جانب سے مقرر ہو، یا جو ریا کار ہو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3753]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8727، ومصباح الزجاجة: 1313)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/178، 183)، سنن الدارمی/الرقاق 63 (2821) (صحیح)» (اس حدیث کی سند میں عبد اللہ بن عامر الاسلمی ضعیف ہیں، لیکن دوسری سند سے تقو یت پاکر یہ صحیح ہے)
وضاحت
۱؎: اور ریاکار وہ ہے جو لوگوں میں اپنی ناموری اور شہرت کے لئے وعظ کہتا ہے، اور لوگوں کو بری بات سے منع کرتا ہے، اور خود سب سے زیادہ برے کاموں میں پھنسا رہتا ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح