أَبُو بَكْرٍ ، شَبَابَةُ ، شُعْبَةُ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا شَبَابَةُ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ , عن عكرمة، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: مَدَحَ رَجُلٌ رَجُلًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَيْحَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ مِرَارًا" , ثُمَّ قَالَ:" إِنْ كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا أَخَاهُ , فَلْيَقُلْ أَحْسِبُهُ , وَلَا أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے ایک آدمی کی تعریف کی تو آپ نے فرمایا: ”افسوس! تم نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی“، اس جملہ کو آپ نے کئی بار دہرایا، پھر فرمایا: ”تم میں سے اگر کوئی آدمی اپنے بھائی کی تعریف کرنا چاہے تو یہ کہے کہ میں ایسا سمجھتا ہوں، لیکن میں اللہ تعالیٰ کے اوپر کسی کو پاک نہیں کہہ سکتا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3744]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الشہادات 16 (2662)، الأدب 95 (6162)، صحیح مسلم/الزہد 14 (3000)، سنن ابی داود/الأدب 10 (4805)، (تحفة الأشراف: 11678)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/41، 46، 47، 50) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی میں یہ نہیں جانتا کہ حقیقت میں اللہ کے نزدیک یہ کیسا ہے؟ میرے نزدیک تو اچھا ہے، حدیثوں کا یہی مطلب ہے کہ منہ پر کسی کی تعریف نہ کرے، یہ بھی اس وقت جب اس شخص کے غرور میں پڑ جانے کا اندیشہ ہو، ورنہ صحیحین کی کئی حدیثوں سے منہ پر تعریف کرنے کا جواز نکلتا ہے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے احد پہاڑ سے فرمایا: تھم جا، تیرے اوپر کوئی نہیں ہے مگر نبی اور صدیق اور شہید اور اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ حاضر تھے، اور بعضوں نے کہا: کراہت اس وقت ہے جب مدح میں مبالغہ کرے اور جھوٹ کہے، اور بعضوں نے کہا اس وقت مکروہ ہے جب اس سے دنیاوی کام نکالنا منظور ہو، اور یہ تعریف غرض کے ساتھ ہو، «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح