عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، هِشَامٍ ، قَتَادَةَ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتُوَائِيِّ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" سَقْيُ الْمَاءِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”اللہ کے رسول! کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”پانی پلانا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3684]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الزکاة 41 (1679، 1680)، سنن النسائی/الوصایا 8 (3694)، (تحفة الأشراف: 3834)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/285، 6/7) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: 413)»
وضاحت
۱؎: جہاں پر لوگوں کو پانی کی حاجت ہو، وہاں سبیل لگانا، یا کنواں یا حوض بنا دینا، اسی طرح جہاں جس چیز کی ضرورت ہو، وہاں اسی کا صدقہ افضل ہو گا، حاصل یہ کہ اللہ تعالی کی مخلوق کو راحت پہنچانے سے زیادہ ثواب کسی چیز میں نہیں، یہاں تک کہ جانوروں کو راحت پہنچانے میں بڑا اجر ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1679) نسائي (3694)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 509
الحكم: حسن