عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، الشَّعْبِيِّ ، الْمِقْدَامِ أَبِي كَرِيمَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ الشَّعْبِيِّ , عَنْ الْمِقْدَامِ أَبِي كَرِيمَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْلَةُ الضَّيْفِ وَاجِبَةٌ , فَإِنْ أَصْبَحَ بِفِنَائِهِ فَهُوَ دَيْنٌ عَلَيْهِ , فَإِنْ شَاءَ اقْتَضَى وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مقدام ابوکریمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کسی کے یہاں رات کو کوئی مہمان آئے تو اس رات اس مہمان کی ضیافت کرنی واجب ہے، اور اگر وہ صبح تک میزبان کے مکان پر رہے تو یہ مہمان نوازی میزبان کے اوپر مہمان کا ایک قرض ہے، اب مہمان کی مرضی ہے چاہے اپنا قرض وصول کرے، چاہے چھوڑ دے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3677]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الأطعمة 5 (3750)، (تحفة الأشراف: 11568) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح