أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: اصْطَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا , فَقَالَ:" إِنَّا قَدِ اصْطَنَعْنَا خَاتَمًا , وَنَقَشْنَا فِيهِ نَقْشًا , فَلَا يَنْقُشَنَّ عَلَيْهِ أَحَدٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک انگوٹھی بنوائی، اور فرمایا: ”ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور اس میں نقش کرایا ہے، لہٰذا اب اس طرح کوئی اور نقش نہ کرائے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3640]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/اللباس 47 (5866)، 50 (5872)، 52 (5875)، 54 (5877)، صحیح مسلم/اللباس 12 (2092)، 13 (2092)، سنن ابی داود/الخاتم 1 (4214)، سنن الترمذی/اللباس 14 (1739)، الشمائل 11 (92)، سنن النسائی/الزینة 45 (5204)، الزینة من المجتبی 24 (5280)، (تحفة الأشراف: 999)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/161، 170، 181، 198، 209، 223) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: کیونکہ وہ آپ کی علامت تھی آپ خطوط پر اس کو ثبت فرماتے، اب بھی اس طرح کا انگوٹھی پر نقش کرانا منع ہے، اور بعضوں نے کہا مکروہ نہیں کیونکہ التباس کا ڈر اب باقی نہیں ہے، اور ہم کہتے ہیں کہ ممانعت عام اور شامل ہے ہمیشہ ہمیش کے لیے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح