بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 363 — باب: جس برتن میں کتا منہ ڈال دے اس کے دھونے کا بیان۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل باب: جس برتن میں کتا منہ ڈال دے اس کے دھونے کا بیان۔ حدیث 363
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي رَزِينٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَضْرِبُ جَبْهَتَهُ بِيَدِهِ، وَيَقُولُ: يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ، أَنْتُمْ تَزْعُمُونَ أَنِّي أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِيَكُونَ لَكُمُ الْمَهْنَأُ وَعَلَيَّ الْإِثْمُ، أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابورزین کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی پیشانی پہ ہاتھ مارتے ہوئے کہا: اے عراق والو! تم یہ سمجھتے ہو کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر جھوٹ باندھتا ہوں تاکہ تم فائدے میں رہو اور میرے اوپر گناہ ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ یقیناً میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھوئے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 363]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الطہارة 27 (279)، سنن النسائی/الطہارة 52 (66)، المیاہ 6 (336)، 7 (339، 340)، (تحفة الأشراف: 12441، 14607)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 34 (172)، سنن ابی داود/الطہارة 37 (71)، سنن الترمذی/الطہارة 68 (91)، موطا امام مالک/الطہارة 6 (35)، مسند احمد (2/245، 265، 271، 314، 360، 358، 424، 427، 440، 480، 482، 508) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: صحیح احادیث سے سات بار دھونا ہی ثابت ہے، تین بار دھونے کی روایت معتبر نہیں ہے، بعض لوگوں نے اسے بھی دیگر نجاستوں پر قیاس کیا ہے، اور کہا ہے کہ کتے کے برتن میں منہ ڈال دینے پر برتن تین بار دھونے سے پاک ہو جائے گا، لیکن اس قیاس سے نص کی یا ضعیف حدیث سے صحیح حدیث کی مخالفت ہے جو درست نہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
أبو معاوية مدلس وعنعن
وكذا شيخه الأعمش عنعن
والمرفوع صحيح انظر صحيح مسلم (279)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 390
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (362) باب پر واپس اگلی حدیث (364) →