أَبُو بَكْرٍ ، ابْنُ دُكَيْنٍ ، زُهَيْرٍ ، عُرْوَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُشَيْرٍ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ دُكَيْنٍ , عَنْ زُهَيْرٍ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُشَيْرٍ , حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ:" أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْتُهُ , وَإِنَّ زِرَّ قَمِيصِهِ لَمُطْلَقٌ" , قَالَ عُرْوَةُ: فَمَا رَأَيْتُ مُعَاوِيَةَ وَلَا ابْنَهُ فِي شِتَاءٍ وَلَا صَيْفٍ , إِلَّا مُطْلَقَةً أَزْرَارُهُمَا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
قرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے بیعت کی، اس وقت آپ کے کرتے کی گھنڈیاں کھلی ہوئی تھیں، عروہ کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے کو خواہ سردی ہو یا گرمی ہمیشہ اپنی گھنڈیاں (بٹن) کھولے دیکھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3578]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/اللباس 26 (4082)، (تحفة الأشراف: 11079)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/434، 4/19، 5/35) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو چھوٹی چھوٹی سنتوں میں بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیروی کا کتنا خیال تھا کہ جس حال میں اور جس وضع میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا ساری عمر وہی وضع اور روش اختیار کی، آفریں ان کے جذبہ و محبت اور اتباع پر، اور کمال ایمان یہی ہے کہ عبادات اور عادات میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیروی کی جائے، دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کرتہ کا گربیان بیچ میں رہتا۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح