أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، أَبِي بُرْدَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ , قَالَ:" دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ , فَأَخْرَجَتْ لِي إِزَارًا غَلِيظًا مِنَ الَّتِي تُصْنَعُ بِالْيَمَنِ , وَكِسَاءً مِنْ هَذِهِ الْأَكْسِيَةِ الَّتِي تُدْعَى الْمُلَبَّدَةَ , وَأَقْسَمَتْ لِي لَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے ایک موٹے کپڑے کا تہبند نکالا جو یمن میں تیار کیا جاتا ہے، اور ان چادروں میں سے ایک چادر جنہیں ملبدہ (موٹا ارزاں کمبل) کہا جاتا ہے، نکالا اور قسم کھا کر مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں میں وفات پائی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3551]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/فرض الخمس 5 (3108)، اللباس 19 (5818)، صحیح مسلم/اللباس 6 (2080)، سنن الترمذی/اللباس 10 (1733)، سنن ابی داود/اللباس 8 (4036)، (تحفة الأشراف: 17693)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/32، 131) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: سبحان اللہ، جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک کمبل اور ایک تہبند پر اکتفا کی، تو ہر مومن کے سامنے لباس میں یہ اسوہ رسول رہنا چاہئے،مطلب یہ ہے کہ دنیا داروں کی خوشامد کرنے سے اور بیہودہ دوڑنے پھرنے سے ہمیشہ پرہیز رکھے، اور قناعت کو اپنا شعار گردانے اور سوال اور حاجت لے کر دوسروں کے سامنے جانے کی ذلت وخواری سے اپنے آپ کو بچانا چاہئے۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح