بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 3540 — باب: نیک فال لینا اچھا ہے اور بدفالی مکروہ۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: طب کے متعلق احکام و مسائل باب: نیک فال لینا اچھا ہے اور بدفالی مکروہ۔ حدیث 3540
حدیث نمبر: 3540 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، أَبِي جَنَابٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ أَبِي جَنَابٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا عَدْوَى , وَلَا طِيَرَةَ , وَلَا هَامَةَ" , فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , الْبَعِيرُ يَكُونُ بِهِ الْجَرَبُ , فَتَجْرَبُ بِهِ الْإِبِلُ , قَالَ:" ذَلِكَ الْقَدَرُ فَمَنْ أَجْرَبَ الْأَوَّلَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: چھوت چھات، بدشگونی اور الو دیکھنے کی کوئی حقیقت نہیں، ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جانب اٹھ کر بولا: اللہ کے رسول! ایک اونٹ کو جب کھجلی ہوتی ہے تو دوسرے اونٹ کو بھی اس کی وجہ سے کھجلی ہو جاتی ہے ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہی تو تقدیر ہے، آخر پہلے اونٹ کو کس نے کھجلی والا بنایا ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3540]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: (86)، (تحفة الأشراف: 8580، ومصباح الزجاجة: 1235) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: مطلب یہ کہ امراض متعدی بھی ہوتے ہیں۔
۲؎: اور جو ڈاکٹر یا حکیم ہمارے زمانے میں بعض بیماری میں عدوی بتلاتے ہیں، ان سے جب یہ اعتراض کرو کہ بھلا اگر عدوی صحیح ہوتا تو جس گھر میں ایک شخص کو ہیضہ ہو تو چاہیے کہ اس گھر کے بلکہ اس محلہ کے سب لوگ مر جائیں، تو اس کا کوئی معقول جواب نہیں دیتے، بلکہ یوں کہتے ہیں کہ بعض مزاجوں میں اس بیماری کے قبول کرنے کا مادہ ہوتا ہے تو ان کو بیماری لگ جاتی ہے، بعض مزاجوں میں یہ مادہ نہیں ہوتا تو ان کو باوجود قرب کے بیماری نہیں لگتی، ہم یوں کہتے ہیں کہ مادے کا مزاج میں پیدا کرنے والا کون ہے؟ اللہ تعالیٰ، تو پھر سب امور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوئے اسی کی مرضی اور تقدیر سے پھر عدوی کا قائل ہونا کیا ضروری ہے؟۔
قال الشيخ الألباني
صحيح دون قوله ذلك القدر
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح دون قوله ذلك القدر
← پچھلی حدیث (3539) باب پر واپس اگلی حدیث (3541) →