بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 3538 — باب: نیک فال لینا اچھا ہے اور بدفالی مکروہ۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: طب کے متعلق احکام و مسائل باب: نیک فال لینا اچھا ہے اور بدفالی مکروہ۔ حدیث 3538
حدیث نمبر: 3538 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، سَلَمَةَ ، عِيسَى بْنِ عَاصِمٍ ، زِرٍّ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ سَلَمَةَ , عَنْ عِيسَى بْنِ عَاصِمٍ , عَنْ زِرٍّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الطِّيَرَةُ شِرْكٌ وَمَا مِنَّا إِلَّا , وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بدشگونی شرک ہے ۱؎ اور ہم میں سے جسے بھی بدشگونی کا خیال آئے تو اللہ تعالیٰ پر توکل کی وجہ سے یہ خیال دور کر دے گا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3538]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الطب 24 (3910)، سنن الترمذی/السیر 47 (1614)، تحفة الأشراف (9207)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/389، 438، 440) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یعنی اللہ کے اوپر بھروسہ کرنے سے یہ وہم جاتا رہے گا، انسان کو چاہئے کہ اگر ایسا وہم کبھی دل میں آئے، تو اس کو بیان نہ کرے، اور منھ سے نہ نکالے،اور اللہ پر بھروسہ کرے، جو وہ چاہے وہ ہو گا، امام بخاری نے کہا: سلیمان بن حرب کہتے تھے کہ میرے نزدیک یہ قول: «ومامنا۔۔۔» اخیر تک ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے، بلکہ اکثر حفاظ نے اس کو عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا کلام کہا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (3537) باب پر واپس اگلی حدیث (3539) →