أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بِقَتْلِ ذِي الطُّفْيَتَيْنِ , فَإِنَّهُ يَلْتَمِسُ الْبَصَرَ وَيُصِيبُ الْحَبَلَ" , يَعْنِي: حَيَّةً خَبِيثَةً.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو دھاری سانپ کو مار ڈالنے کا حکم دیا، اس لیے کہ وہ آنکھ کی بینائی کو زائل کرنے اور عورتوں کے حمل کو گرا دیتا ہے، یہ ایک خبیث سانپ ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3534]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/السلام 37 (2232)، (تحفة الأشراف: 17068)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/بدء الخلق 15 (3308) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: جس کو عربی میں «ذي الطفيتين» کہتے ہیں، وہ ایک خبیث زہریلا سانپ ہے اس کی پیٹھ پر دو سفید لکیریں ہوتی ہیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح