سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، مَعْنُ بْنُ عِيسَى ، مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، مَالِكٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ , قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا اشْتَكَى , يَقْرَأُ عَلَى نَفْسِهِ: بِالْمُعَوِّذَاتِ , وَيَنْفُثُ , فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُهُ , كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَيْهِ وَأَمْسَحُ بِيَدِهِ رَجَاءَ بَرَكَتِهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بیمار پڑے تو اپنے اوپر معوذات پڑھتے اور پھونک لیتے، لیکن جب آپ کا مرض شدت اختیار کر گیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اوپر پڑھتی اور برکت کی امید سے آپ ہی کا ہاتھ آپ پر پھیرتی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3529]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/فصل القرآن 14 (5016)، صحیح مسلم/السلام 20 (2192)، سنن ابی داود/الطب 19 (3902)، (تحفة الأشراف: 16589)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العین 4 (10)، مسند احمد (6/104، 181، 256، 263) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح