سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ ، الْأَعْمَشِ ، يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ , حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَرِيضٍ يَعُودُهُ , قَالَ:" أَتَشْتَهِي شَيْئًا؟" , قَالَ: أَشْتَهِي كَعْكًا , قَالَ:" نَعَمْ , فَطَلَبُوا لَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مریض کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، اور اس سے پوچھا: ”کیا تمہارا جی کسی چیز کی خواہش رکھتا ہے“؟ جواب دیا: میرا جی کیک (کھانے کو) چاہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے، پھر صحابہ نے اس کے لیے کیک منگوایا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3441]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 1440 (مصباح الزجاجة: 1193) (ضعیف)» (سند میں یزید الرقاشی ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (1440)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 500
الحكم: ضعيف