أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ أَبُو بَكْرٍ ، يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَهُوَ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فِي حَائِطِهِ , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ كَانَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ فِي شَنٍّ فَاسْقِنَا , وَإِلَّا كَرَعْنَا" , قَالَ: عِنْدِي مَاءٌ بَاتَ فِي شَنٍّ , فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْنَا مَعَهُ إِلَى الْعَرِيشِ , فَحَلَبَ لَهُ شَاةً عَلَى مَاءٍ بَاتَ فِي شَنٍّ فَشَرِبَ , ثُمَّ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ بِصَاحِبِهِ الَّذِي مَعَهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انصار کے ایک شخص کے پاس تشریف لے گئے، وہ اپنے باغ میں پانی دے رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اگر تمہارے پاس مشک میں باسی پانی ہو تو ہمیں پلاؤ، ورنہ ہم بہتے پانی میں منہ لگا کر پئیں گے، اس نے جواب دیا: میرے پاس مشک میں باسی پانی ہے، چنانچہ وہ اور اس کے ساتھ ساتھ ہم چھپر کی طرف گئے، تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خاطر بکری کا دودھ دوھ کر اس باسی پانی میں ملایا جو مشک میں رکھا ہوا تھا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے پیا، پھر اس نے ایسا ہی آپ کے ساتھ موجود صحابی کے ساتھ کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3432]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأشربة 20 (5613)، سنن ابی داود/الأشربة 18 (3724)، (تحفة الأشراف: 2250)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/328، 343، 344، 342)، 355، سنن الدارمی/الأشربة 22 (2169) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہ ساتھ والے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح