بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 3420 — باب: مشک کے منہ سے پانی پینے کا بیان۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: مشروبات کے متعلق احکام و مسائل باب: مشک کے منہ سے پانی پینے کا بیان۔ حدیث 3420
حدیث نمبر: 3420 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ ، عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، أَيُّوبَ ، عِكْرِمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ," عَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مشک کے منہ سے پانی پینے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3420]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأشربة 24 (5627، 5628)، (تحفة الأشراف: 14245)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/230، 247، 327، 353، 487)، سنن الدارمی/الأشربة 19 (2164) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: ممانعت کی وجہ ظاہر ہے کہ پانی اس صورت میں نظر نہیں آتا، اور اندیشہ ہے کہ پانی میں کوڑا یا کیڑا ہو، اور وہ پی جائے، دوسرے یہ کہ مشک میں بدبو ہو جانے کا خیال ہے، تیسرے یہ کہ پانی گرنے کا اندیشہ ہے، اور اکثر علماء کے نزدیک یہ ممانعت تنزیہی ہے، یعنی خلاف اولیٰ۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (3419) باب پر واپس اگلی حدیث (3421) →