بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 3416 — باب: پانی تین سانس میں پینے کا بیان۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: مشروبات کے متعلق احکام و مسائل باب: پانی تین سانس میں پینے کا بیان۔ حدیث 3416
حدیث نمبر: 3416 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ ، ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ , عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَنَسٍ , أَنَّهُ كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا , وَزَعَمَ أَنَسٌ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ برتن سے تین سانسوں میں پیتے اور کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی تین سانسوں میں پیا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3416]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأشربة 66 (5631)، صحیح مسلم/الأشربة 16 (2028)، سنن الترمذی/الأشربة 13 (1884)، (تحفة الأشراف: 498)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأشربة 19 (3728)، مسند احمد (3/114، 119، 128، 185)، سنن الدارمی/الأشربة 20 (2166) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: تین سانس میں پانی پینا مستحب ہے، مگر ضروری ہے کہ جب سانس لے تو برتن کو اپنے منہ سے علیحدہ کر لے، اور دوسری حدیث میں جو برتن میں سانس لینے سے منع کیا ہے اس کا یہی مطلب ہے کہ برتن منہ سے لگا ہو، اور سانس لے یہ مکروہ ہے، اس لئے کہ پانی ناک میں چڑھ جانے کا ڈر ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (3415) باب پر واپس اگلی حدیث (3417) →