أَبُو كُرَيْبٍ ، إِسْمَاعِيل بْنِ صَبِيحٍ ، أَبِي إِسْرَائِيلَ ، أَبِي عُمَرَ الْبَهْرَانِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ , عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ صَبِيحٍ , عَنْ أَبِي إِسْرَائِيلَ , عَنْ أَبِي عُمَرَ الْبَهْرَانِيِّ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ:" كَانَ يُنْبَذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَيَشْرَبُهُ يَوْمَهُ ذَلِكَ وَالْغَدَ وَالْيَوْمَ الثَّالِثَ , فَإِنْ بَقِيَ مِنْهُ شَيْءٌ أَهْرَاقَهُ , أَوْ أَمَرَ بِهِ فَأُهْرِيقَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے نبیذ تیار کی جاتی تو آپ اسے اسی دن پیتے، پھر اگلے دن، پھر تیسرے دن، اور اگر اس کے بعد بھی اس میں سے کچھ بچ جاتا تو اسے بہا دیتے یا کسی کو حکم دیتے تو وہ بہا دیتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3399]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الأشربة 9 (2004)، سنن ابی داود/الأشربة 10 (3713)، سنن النسائی/الأشربة 55 (5740)، (تحفة الأشراف: 6548)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/232، 240، 287، 355) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: نبیذ یعنی انگور، کھجور یا کسی پھل کا شربت پینا صحیح ہے، بشرطیکہ اس میں جوش پیدا نہ ہوا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے جو آگے آئے گی کہ نبیذ میں جو ش آ گیا تھا، تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو دیوار پر مار، یہ تو وہ پیئے گا جو اللہ تعالی اور آخرت کے دن پر ایمان نہ رکھتا ہو“ (ابوداود، اور نسائی)، اور مسند احمد میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبیذ کو پیو جب تک شیطان اس کو نہ لے لے، کہا گیا: کتنے دن میں اس کو شیطان لیتا ہے؟ کہا: تین دن میں۔ (ملاحظہ ہو: الروضۃ الندیۃ)
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح