هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، ابْنُ جَابِرٍ ، سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ ، ابْنَيْ ، بُسْرٍ السُّلَمِيَّيْنِ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ , حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ , عَنْ ابْنَيْ بُسْرٍ السُّلَمِيَّيْنِ , قَالَا:" دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْنَا تَحْتَهُ قَطِيفَةً , لَنَا صَبَبْنَاهَا لَهُ صَبًّا , فَجَلَسَ عَلَيْهَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ الْوَحْيَ فِي بَيْتِنَا، وَقَدَّمْنَا لَهُ زُبْدًا وَتَمْرًا , وَكَانَ يُحِبُّ الزُّبْدَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
بسر سلمی کے دو بیٹے (رضی اللہ عنہما) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نے آپ کے نیچے اپنی ایک چادر بچھائی جسے ہم نے پانی ڈال کر ٹھنڈا کر رکھا تھا، آپ اس پر بیٹھ گئے، پھر اللہ تعالیٰ نے ہمارے گھر میں آپ پر وحی نازل فرمائی، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں مکھن اور کھجور پیش کیے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکھن پسند فرماتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3334]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 519، ومصباح الزجاجة: 1150)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأطعمة 45 (3837) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح