بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 332 — باب: قضائے حاجت کے لیے میدان میں دور جانے کا بیان۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل باب: قضائے حاجت کے لیے میدان میں دور جانے کا بیان۔ حدیث 332
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، عُمَرَ بْنِ الْمُثَنَّى ، عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْمُثَنَّى ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَتَنَحَّى لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ جَاءَ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ قضائے حاجت کے لیے الگ تھلگ ہوئے پھر واپس آئے، وضو کے لیے پانی مانگا اور وضو کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 332]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1092، ومصباح الزجاجة: 137) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں ضعف ہے، اس لئے کہ عمر بن المثنی الاشجعی الرقی مستور اور عطاء خراسانی تدلیس و ارسال کرنے والے ہیں، اور ان کی روایت عنعنہ سے ہے، نیز ان کا سماع انس رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے، لیکن دوسرے طرق سے یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 33)
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف لضعف (عمر بن المثني) الأشجعي وقال أبو زرعة: عطاء لم يسمع من أنس ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 388
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (331) باب پر واپس اگلی حدیث (333) →