إِسْمَاعِيل بْنُ أَسَدٍ ، جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَسَدٍ , حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ , عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ , قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَكَلَّمَهُ , فَجَعَلَ تُرْعَدُ فَرَائِصُهُ , فَقَالَ لَهُ:" هَوِّنْ عَلَيْكَ , فَإِنِّي لَسْتُ بِمَلِكٍ , إِنَّمَا أَنَا ابْنُ امْرَأَةٍ تَأْكُلُ الْقَدِيدَ" , قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: إِسْمَاعِيل وَحْدَهُ , وَصَلَهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا، آپ نے اس سے گفتگو کی تو (خوف کی وجہ سے) اس کے مونڈھے کانپنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے کہا: ”ڈرو نہیں، اطمینان رکھو، میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں، میں تو ایک ایسی عورت کا بیٹا ہوں جو سوکھا گوشت کھایا کرتی تھی ۱؎۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: صرف اسماعیل نے اسے موصول بیان کیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3312]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10006، ومصباح الزجاجة: 1140) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: «قدید» : ایسے گوشت کو کہتے ہیں جسے نمک لگا کر دھوپ میں سکھایا گیا ہو۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
إسماعيل بن أبي خالد عنعن في ھذا السند
و صرح بالسماع في الرواية المرسلة عند الخطيب (278/6) والمرسل أصح كما قال الدار قطني وغيره
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 495
الحكم: صحيح