بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 3309 — باب: بھنے ہوئے گوشت کا بیان۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: کھانوں کے متعلق احکام و مسائل باب: بھنے ہوئے گوشت کا بیان۔ حدیث 3309
حدیث نمبر: 3309 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: مَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَأَى شَاةً سَمِيطًا، حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی بھنی ہوئی بکری دیکھی ہو یہاں تک کہ آپ اللہ سے جا ملے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3309]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الرقاق 17 (6457)، الأطعمة 26 (5385)، (تحفة الأشراف: 1406)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/128، 134، 250) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: «سمیط» وہ بکری جس کو بال نکال کر کھال سمیت بھونا گیا ہو، یہ امیروں کا کھانا ہے، اور دوسرے لوگ کھال نکال کر گوشت بھونتے ہیں، اور مطلب اس کا یہ ہے کہ مکمل بھنی ہوئی بکری آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نہیں دیکھی۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (3308) باب پر واپس اگلی حدیث (3310) →