مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" كَمَلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ , وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ، وَإِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ , كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں میں بہت سے لوگ کامل ہوئے لیکن عورتوں میں سوائے مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ کے کوئی کامل نہیں ہوئی، اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت دوسری عورتوں پر ایسے ہی ہے جیسے ثرید کی باقی تمام کھانوں پر“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3280]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأنبیاء 32 (3411)، 46 (3433)، فضائل الصحابة 30 (4769)، الأطعمة 25 (5418)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 12 (2431)، سنن الترمذی/الأطعمة 31 (1834)، سنن النسائی/عشرة النساء 3 (3399)، (تحفة الأشراف: 9029)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/394، 409) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: ثرید بلا دقت بن جاتا ہے، اور اس کے ساتھ جلدی ہضم ہونے والا، خوش ذائقہ، مقوی، اور بے حد نفع بخش ہے، ایسے ہی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسلمانوں کو بہت فوائد حاصل ہوئے، اور سیکڑوں مسئلے معلوم ہوئے۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح