بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 325 — باب: صحراء و میدان کے علاوہ پاخانہ میں قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے کی رخصت کا بیان۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل باب: صحراء و میدان کے علاوہ پاخانہ میں قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے کی رخصت کا بیان۔ حدیث 325
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَبِي ، مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاق ، أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ ، مُجَاهِدٍ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاق ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِبَوْلٍ"، فَرَأَيْتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ بِعَامٍ يَسْتَقْبِلُهَا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منع فرمایا کہ ہم پیشاب کرنے کے وقت قبلہ کی طرف منہ کریں، پھر آپ کے انتقال سے ایک سال پہلے میں نے دیکھا قضائے حاجت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا منہ قبلہ کی طرف ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 325]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الطہارة 5 (13)، سنن الترمذی/الطہارة 7 (9)، (تحفة الأشراف: 2574)، مسند احمد (3/360) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: جابر رضی اللہ عنہ یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ ممانعت صحراء اور «بنیان» (آبادی) دونوں کو عام تھی، اسی وجہ سے انہوں نے اسے نسخ پر محمول کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آخری فعل سے ممانعت منسوخ ہو گئی، اگر ممانعت کو صحراء و میدان کے ساتھ خاص مان لیا جائے تو نہ دونوں فعلوں میں تعارض ہو گا، اور نہ ہی ناسخ منسوخ ماننے کی ضرورت پڑے گی۔
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: حسن
← پچھلی حدیث (324) باب پر واپس اگلی حدیث (326) →