أَبُو كُرَيْبٍ ، عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: نَادَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ حِينَ انْصَرَفَ مِنَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ مَضَبَّةٌ، فَمَا تَرَى فِي الضِّبَاب؟، قَالَ:" بَلَغَنِي أَنَّهُ أُمَّةً مُسِخَتْ" فَلَمْ يَأْمُرْ بِهِ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نماز پڑھ کر لوٹے تو اہل صفہ میں سے ایک شخص نے آپ کو آواز دی، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے ملک میں ضب (گوہ) بہت ہوتی ہے، آپ اس سلسلے میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ یہ کوئی امت ہے جو مسخ کر دی گئی ہے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نہ اس کے کھانے کا حکم دیا، اور نہ ہی منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3240]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الصید والذبائح 7 (1951)، (تحفة الأشراف: 4315)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/5، 19، 66) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح