أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أُمِّ شَرِيكٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أُمِّ شَرِيكٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا، بِقَتْلِ الْأَوْزَاغِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام شریک رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چھپکلیوں کے مارنے کا حکم دیا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3228]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/بدء الخلق 15 (3307)، أحادیث الأنبیاء 8 (3359)، صحیح مسلم/السلام 38 (2237)، سنن النسائی/الحج 115 (2888)، (تحفة الأشراف: 18329)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/421، 462)، سنن الدارمی/الأضاحی 27 (2043) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: ہر چند یہ جانور کسی کو کاٹتے نہیں نہ ایذا دیتے ہیں، لیکن ان سے دل کو نفرت پیدا ہوتی ہے، اور بعضوں نے کہا: یہ زہریلی ہوتی ہیں، بعضوں نے کہا: وہ عرب کے ملک میں اونٹنی کا تھن پکڑ کر دودھ چوس لیتی ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح