هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، وَاسِعَ بْنَ حَبَّانَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمَّهُ وَاسِعَ بْنَ حَبَّانَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ:" يَقُولُ أُنَاسٌ: إِذَا قَعَدْتَ لِلْغَائِطِ فَلَا تَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، وَلَقَدْ ظَهَرْتُ ذَاتَ يَوْمٍ مِنَ الْأَيَّامِ عَلَى ظَهْرِ بَيْتِنَا،" فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ" هَذَا حَدِيثُ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ جب تم قضائے حاجت کے لیے بیٹھو تو قبلہ رو ہو کر نہ بیٹھو، حالانکہ ایک دن میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ دو کچی اینٹوں پر قضائے حاجت کے لیے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے بیٹھے ہیں۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ یزید بن ہارون کی حدیث ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 322]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الوضوء 12 (145)، 14 (148)، صحیح مسلم/الطہارة 17 (266)، سنن ابی داود/الطہارة 5 (12)، سنن الترمذی/الطہارة 7 (11)، سنن النسائی/الطہارة 22 (23)، (تحفة الأشراف: 8552)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القبلة 2 (3)، مسند احمد (2/12، 13)، سنن الدارمی/الطہارة 8 (694) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح