أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، شَبَابَةُ ، شُعْبَةُ ، أَبِي التَّيَّاحِ ، مُطَرِّفًا ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، ثُمَّ قَالَ: مَا لَهُمْ وَلِلْكِلَابِ، ثُمَّ رَخَّصَ لَهُمْ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کتوں کے مار ڈالنے کا حکم دیا، پھر آپ نے فرمایا: ”انہیں کتوں سے کیا مطلب“؟ پھر آپ نے انہیں شکاری کتے رکھنے کی اجازت دے دی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3200]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الطہارة 27 (280)، سنن ابی داود/الطہارة 37 (74)، سنن النسائی/الطہارة 53 (67)، المیاہ 7 (337، 338)، (تحفة الأشراف: 9665)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/86، 5/56)، سنن الدارمی/الصید 2 (2049) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: کتوں سے کیا مطلب یعنی کتا پالنا بے فائدہ ہے بلکہ وہ نجس جانور ہے، اندیشہ ہے کہ برتن یا کپڑے کو گندہ کر دے،لیکن کتوں کا قتل صحیح مسلم کی حدیث سے منسوخ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کتوں کے قتل سے منع کیا، اس کے بعد اور فرمایا: ”کالے کتے کو مار ڈالو وہ شیطان ہے“ (انجاح)۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح