مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ، حَسِبْتُهُ قَالَ: مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص میرے اوپر جھوٹ باندھے ”(انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ) میرا خیال ہے کہ آپ نے «متعمدا» بھی فرمایا یعنی جان بوجھ کر“ ۱؎ تو وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 32]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/العلم 8 (2661)، (تحفة الأشراف: 1525)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/ العلم 39 (108)، صحیح مسلم/المقدمة 2 (3)، مسند احمد (3/98، 113، 116، 172، 176، 203، 209، 223، 279، 280)، سنن الدارمی/المقدمة 25 (244)، 46 (559) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ شک ہے کہ «متعمدا» کا لفظ بھی فرمایا یا نہیں، اور باقی حدیث میں کوئی شک نہیں ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح