أَبُو كُرَيْبٍ ، مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، هِلَالُ بْنُ مَيْمُونٍ الْجُهَنِيُّ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ مَيْمُونٍ الْجُهَنِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، قَالَ عَطَاءٌ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِغُلَامٍ يَسْلُخُ شَاةً، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَنَحَّ حَتَّى أُرِيَكَ"، فَأَدْخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ بَيْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ فَدَحَسَ بِهَا، حَتَّى تَوَارَتْ إِلَى الْإِبِطِ، وَقَالَ: يَا غُلَامُ،" هَكَذَا فَاسْلُخْ"، ثُمَّ مَضَى وَصَلَّى لِلنَّاسِ، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گزر ایک لڑکے کے پاس سے ہوا جو بکری کی کھال اتار رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”الگ ہو جاؤ میں تمہیں بتاتا ہوں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا دست مبارک گوشت اور کھال کے بیچ داخل فرمایا یہاں تک کہ آپ کا ہاتھ بغل تک پہنچ کر چھپ گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اے لڑکے! اس طرح سے کھال اتارو“، پھر آپ وہاں سے چلے، اور لوگوں کو نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3179]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الطہارة 73 (185)، (تحفة الأشراف: 4158) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: کیوں کہ بکری نجس نہیں ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح