أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، غُنْدَرٌ ، شُعْبَةُ ، حَاضِرَ بْنَ مُهَاجِرٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ حَاضِرَ بْنَ مُهَاجِرٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ " أَنَّ ذِئْبًا نَيَّبَ فِي شَاةٍ فَذَبَحُوهَا بِمَرْوَةٍ، فَرَخَّصَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَكْلِهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بھیڑئیے نے ایک بکری میں دانت گاڑ دیئے، تو لوگوں نے اس بکری کو پتھر سے ذبح کر ڈالا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اس کے کھانے کی اجازت دے دی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3176]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن النسائی/الضحایا 17 (4405)، 23 (4412)، (تحفة الأشراف: 3718)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/184) (صحیح)» (سند میں حاضر بن مہاجر کو ابو حاتم نے مجہول کہا ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني
صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح لغيره