مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الْوَهَّابِ ، خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَبِي الْأَشْعَثِ ، شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ عزوجل نے ہر چیز میں احسان (رحم اور انصاف) کو فرض قرار دیا ہے، پس جب تم قتل کرو تو اچھی طرح قتل کرو (تاکہ مخلوق کو تکلیف نہ ہو) اور جب ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو، اور چاہیئے کہ تم میں سے ہر ایک اپنی چھری کو تیز کر لے، اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3170]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الصید 11 (1955)، سنن ابی داود/الأضاحي 12 (2815)، سنن الترمذی/الدیات 14 (1409)، سنن النسائی/الضحایا 21 (4410)، 26 (4419)، (تحفة الأشراف: 4817)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/123، 124، 125)، سنن الدارمی/الأضاحي10 (2013) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی ذبح کے بعد تھوڑی دیر ٹھہر جائے، یہاں تک کہ جانور ٹھنڈا ہو جائے،اس وقت کھال اتارے اور کاٹے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح