هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كُلُّ غُلَامٍ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ، تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ، وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ وَيُسَمَّى".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ہر لڑکا اپنے عقیقہ میں گروی ہے، اس کی طرف سے ساتویں دن عقیقہ کیا جائے، اس کا سر مونڈا جائے، اور نام رکھا جائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3165]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الأضاحي 23 (1522)، سنن ابی داود/الضحایا 21 (2837، 2838)، سنن النسائی/العقیقة 4 (4225)، (تحفة الأشراف: 4581)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العقیقة 2 (5472)، مسند احمد (5/7، 8، 12، 17، 18، 22)، سنن الدارمی/الأضاحي 9 (2012) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح