أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، أَبِيهِ ، سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ ، أُمِّ كُرْزٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُتَكَافِئَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام کرز رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”لڑکے کی طرف سے دو ہم عمر بکریاں ہیں، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3162]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الضحایا 21 (2835، 2836)، سنن النسائی/العقیقة 3 (4222، 4223)، (تحفة الأشراف: 17833)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأضاحي 17 (1516)، مسند احمد (6/381، 422)، سنن الدارمی/الأضاحي 9 (2009) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: جو جانور نومولود کی طرف سے ذبح کیا جاتا ہے اسے عقیقہ کہتے ہیں، اور نومولود کے بالوں کو بھی عقیقہ کہا جاتا ہے، جو جانور کے ذبح کے وقت اتارے جاتے ہیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح