أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، زُهَيْرٍ ، أَبِي إِسْحَاق ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ ، الْأَسْوَدِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، قَالَ: لَيْسَ أَبُو عُبَيْدَةَ ذَكَرَهُ، وَلَكِنْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى الْخَلَاءَ، فَقَالَ:" ائْتِنِي بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، فَأَتَيْتُهُ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ، وَقَالَ: هِيَ رِكْسٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قضائے حاجت کے لیے گئے اور فرمایا: ”میرے پاس تین پتھر لاؤ“، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں دو پتھر اور گوبر کا ایک ٹکڑا لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دونوں پتھر لے لیے اور گوبر پھینک دیا، اور فرمایا: ”یہ ناپاک ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 314]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الوضوء 21 (156)، سنن النسائی/الطہارة 38 (42)، (تحفة الأشراف: 9170)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الوضوء 13 (17)، مسند احمد (1/388، 418، 450) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”گوبر نجس ہے، ایک اور پتھر لاؤ“ (ورجاله ثقات)، علامہ ابن الجوزی فرماتے ہیں: ”ممکن ہے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود ہی تیسرا پتھر اٹھا لیا ہو“، ملاحظہ ہو تحفۃ الأحوذی (۱/۶۹)، چنانچہ آگے کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ تین پتھر لینا سنت ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح