هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَبْدَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِكْنَفٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِكْنَفٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ أُحُدًا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ، وَهُوَ عَلَى تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّةِ، وَ عَيْرٌ عَلَى تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ النَّارِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے، اور ہم اس سے، اور وہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ پر قائم ہے، اور عیر (یہ بھی ایک پہاڑ ہے) جہنم کے باغات میں سے ایک باغ پر قائم ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3115]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 977، ومصباح الزجاجة: 1079) (ضعیف)» (سند میں ابن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، اور ان کے شیخ عبداللہ بن مکنف مجہول ہیں، لیکن حدیث کا پہلا ٹکڑا صحیح ہے، جب کہ صحیح بخاری میں دوسری سند سے انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، (2889- 3367)، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1820)
قال الشيخ الألباني
ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ابن إسحاق عنعن
وشيخه عبد اللّٰه بن مكنف:مجهول (تقريب: 3639) وضعفه البخاري وغيره وشطر الحديث ((إن أحدًا جبل يحبنا ونحبه)) صحيح متفق عليه (البخاري 4083،مسلم 1393/504)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 487
الحكم: ضعيف جدا