أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ، فَقُلْنَا: قَدْ حَاضَتْ، فَقَالَ:" عَقْرَى حَلْقَى، مَا أُرَاهَا إِلَّا حَابِسَتَنَا"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا قَدْ طَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ، قَالَ:" فَلَا إِذًا مُرُوهَا فَلْتَنْفِرْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا تو ہم نے کہا: انہیں حیض آ گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ” «عقرى حلقى» ! میں سمجھتا ہوں اس کی وجہ سے ہمیں رکنا پڑے گا“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ دسویں کو طواف افاضہ کر چکی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تب تو پھر ہمیں رکنے کی ضرورت نہیں، اس سے کہو کہ وہ روانہ ہو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3073]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الحج 151 (1771)، صحیح مسلم/17 (1211)، (تحفة الأشراف: 15946)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/224، سنن الدارمی/المناسک 73 (1958) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: جب حائضہ طواف افاضہ کر چکی ہو تو طواف وداع اس پر لازم نہیں ہے، اور ہم نے عمر رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما، اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے یہ روایت کیا ہے کہ انہوں نے طواف وداع کے لیے حائضہ کو ٹھہرنے کا حکم کیا ہے گویا انہوں نے اس کو طواف افاضہ کی طرح واجب سمجھا۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح