نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ وَضَعَ خَاتَمَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تھے تو اپنی انگوٹھی اتار دیتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 303]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الطہارة 10 (19)، سنن الترمذی/اللباس 16 (1746)، الشمائل 11 (93)، سنن النسائی/الزینة 51 (5216)، (تحفة الأشراف: 1512)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/99، 101، 282) (ضعیف)» (اس میں ابن جریج مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، امام دارقطنی کہتے ہیں کہ ابن جریج کی تدلیس سے اجتناب کرو، اس لئے کہ وہ قبیح تدلیس کرتے ہیں، وہ صرف ایسی حدیث کے بارے میں تدلیس کرتے ہیں جس کو انہوں نے کسی مطعون راوی سے سنی ہو)
وضاحت
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی انگوٹھی میں تین سطریں تھیں، نیچے کی سطر میں «محمد» ، اور بیچ کی سطر میں «رسول» ، اور اوپر کی سطر میں لفظ «الجلالہ» ”اللہ“ مرقوم تھا، اور اسی لفظ کی تعظیم کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کو اتار دیتے تھے، نیز اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس میں اللہ کا نام ہو اسے پاخانے وغیرہ نجس جگہوں میں نہ لے جایا جائے۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (19) ترمذي (1746) نسائي (5216)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 387
الحكم: ضعيف