بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 3012 — باب: عرفات میں کہاں ٹھہرے؟
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل باب: عرفات میں کہاں ٹھہرے؟ حدیث 3012
حدیث نمبر: 3012 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ، وَارْفِعُوا عَنْ بَطْنِ عَرَفَةَ، وَكُلُّ الْمُزْدَلِفَةِ مَوْقِفٌ، وَارْتَفِعُوا عَنْ بَطْنِ مُحَسِّرٍ، وَكُلُّ مِنًى مَنْحَرٌ، إِلَّا مَا وَرَاءَ الْعَقَبَةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پورا عرفات جائے وقوف ہے، اور بطن عرفہ سے اٹھ جاؤ یعنی وہاں نہ ٹھہرو، اور پورا (مزدلفہ) ٹھہرنے کی جگہ ہے، اور بطن محسر سے اٹھ جاؤ یعنی وہاں نہ ٹھہرو، اور پورا منٰی منحر (مذبح) ہے، سوائے جمرہ عقبہ کے پیچھے کے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3012]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3069، ومصباح الزجاجة: 1052)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/المناسک 65 (1936)، سنن الدارمی/المناسک 50 (1921) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں قاسم بن عبداللہ العمری متروک راوی ہے، اس لئے «إلا ما وراء العقبة» کے لفظ کے ساتھ یہ صحیح نہیں ہے، اصل حدیث کثرت طرق اور شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 1665 - 692 1 - 1693)
وضاحت
۱؎: بطن عرفہ سے اٹھ جاؤ: اس لئے کہ وہ میدان عرفات کی حد سے باہر ہے۔ بطن محسر سے اٹھ جاؤ: اس لئے کہ وہاں منیٰ کی حد ختم ہو جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح دون قوله إلا ما وراء العقبة
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
القاسم بن عبد اللّٰه: متروك (تقريب: 5468)
وأصل الحديث صحيح إلا ’’ ماوراء العقبة ‘‘ انظر صحيح مسلم (1218)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 485
الحكم: صحيح دون قوله إلا ما وراء العقبة
← پچھلی حدیث (3011) باب پر واپس اگلی حدیث (3013) →