أَبُو كُرَيْبٍ ، يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ ، الْأَعْمَشِ ، حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَابِتٍ ، عُرْوَةَ ، ابْنُ عُمَرَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ : فِي أَيِّ شَهْرٍ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: فِي رَجَبٍ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ :" مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ قَطُّ، وَمَا اعْتَمَرَ إِلَّا وَهُوَ مَعَهُ" تَعْنِي: ابْنَ عُمَرَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عروہ کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کس مہینہ میں عمرہ کیا؟ تو انہوں نے کہا: رجب میں، اس پر ام المؤمنین عائشہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی بھی رجب میں عمرہ نہیں کیا، اور آپ کا کوئی عمرہ ایسا نہیں جس میں وہ یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما آپ کے ساتھ نہ رہے ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2998]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«حدیث ابن عمر أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 35 (1255)، سنن الترمذی/الحج 93 (936)، (تحفة الأشراف: 7321)، حدیث عائشہ أخرجہ: سنن الترمذی/ الحج 93 (936)، (تحفة الأشراف: 17373)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العمرة 3 (1777)، سنن ابی داود/الحج 80 (1994)، مسند احمد (1/246) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی وہ بھول گئے ہیں اور غلطی سے رجب کہہ دیا ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح