عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَكِيعٌ ، أَبِي ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" إِنْ أَسْعَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى، وَإِنْ أَمْشِ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي، وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اگر میں صفا اور مروہ کے درمیان دوڑوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دوڑتے ہوئے دیکھا ہے، اور اگر میں عام چال چلوں تو میں نے آپ کو ایسا بھی چلتے دیکھا ہے، اور میں بہت بوڑھا ہوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2988]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الحج 56 (1904)، سنن الترمذی/الحج 39 (864)، سنن النسائی/الحج 174 (2979)، (تحفة الأشراف: 7379)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 34 (130)، مسند احمد (2/53، 60، 61، 120)، سنن الدارمی/المناسک 25 (1880) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے قول کا یہ مطلب ہے کہ دوڑنا اور معمولی چال سے چلنا دونوں طرح سنت ہے، ا ور اگر چلنا سنت بھی ہو تب بھی چلنے میں میرے لیے حرج نہیں، اس لیے کہ میں ناتواں بوڑھا ہوں۔
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح