مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، بَحْرُ بْنُ كَنِيزٍ ، عُثْمَانَ بْنِ سَاجٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ كَنِيزٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ سَاجٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ:" إِنَّ أَفْوَاهَكُمْ طُرُقٌ لِلْقُرْآنِ، فَطَيِّبُوهَا بِالسِّوَاكِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تمہارے منہ قرآن کے راستے ہیں (تم اپنے منہ سے قرآن کی تلاوت کرتے ہو) لہٰذا اسے مسواک کے ذریعہ پاک رکھا کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 291]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ما جہ، (تحفة الأشراف: 10106، ومصباح الزجاجة: 120) (صحیح)» (سند میں بحر بن کنیز ضعیف ہیں، اور سعید بن جبیر اور علی رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن دوسرے طرق سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1213)
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
بحربن كنيز السقاء: ضعيف (تقريب: 637)
وللحديث شاهد ضعيف (انظر التلخيص الحبير 70/1 ح 69)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 386
الحكم: صحيح