مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، مُحَمَّدُ بْنُ كُرَيْبٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، حُصَيْنُ بْنُ عَوْفٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كُرَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُصَيْنُ بْنُ عَوْفٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي أَدْرَكَهُ الْحَجُّ، وَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَحُجَّ إِلَّا مُعْتَرِضًا، فَصَمَتَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ:" حُجَّ عَنْ أَبِيكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حصین بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد پر حج فرض ہو گیا ہے لیکن وہ حج کرنے کی سکت نہیں رکھتے، مگر اس طرح کہ ا نہیں کجاوے کے ساتھ رسی سے باندھ دیا جائے؟ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے پھر فرمایا: ”تم اپنے والد کی طرف سے حج کرو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2908]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3417، ومصباح الزجاجة: 1026) (ضعیف الإسناد)» (سند میں محمد بن کریب منکر الحدیث ہیں، لیکن صحیح و ثابت احادیث ہی ہمارے لئے کافی ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن كريب:ضعيف (تقريب: 6256)
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 483
الحكم: ضعيف الإسناد