مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، عَزْرَةَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ شُبْرُمَةُ؟"، قَالَ: قَرِيبٌ لِي، قَالَ:" هَلْ حَجَجْتَ قَطُّ؟"، قَالَ: لَا، قَالَ:" فَاجْعَلْ هَذِهِ عَنْ نَفْسِكَ، ثُمَّ أحْجُجَّ عَنْ شُبْرُمَةَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک شخص کو «لبیک عن شبرمہ» ”حاضر ہوں شبرمہ کی طرف سے“ کہتے ہوئے سنا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: ”شبرمہ کون ہے“؟ اس نے بتایا: وہ میرا رشتہ دار ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم نے کبھی حج کیا ہے“؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس حج کو اپنی طرف سے کر لو، پھر (آئندہ) شبرمہ کی طرف سے کرنا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2903]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/المناسک 26 (1811)، (تحفة الأشراف: 5564) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حج دوسرے کی طرف سے نائب ہو کر کرنا جائز ہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ اس سے پہلے خود اپنا فریضہ حج ادا کر چکا ہو۔
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح